جس تن نوں لگدی او تن جانڈے
جس تن نوں لگدی او تن جانڈے از دیا مغل قسط نمبر19
آج ولید مما سے بات کرنے جا رہا تھا ۔۔۔۔ اسے یقین تھا وہ انکار نہیں کریں گی ۔۔۔۔ انہوں نے آج تک اس کی کسی بات سے انکار نہیں کیا تھا ۔۔۔۔چھوٹی سی بات سے بھی نہیں تو یہ تو پھر اس کی زندگی کا اس کی خوشی کا سوال تھا ۔۔۔۔ وہ بھلا کیسے منع کر سکتی تھیں ۔۔۔۔ "مما جاگ رہی ہیں کیا " وہ دروازہ ہلکا سا بجا کر اندر داخل ہو گیا "جی مما کی جان ۔۔۔۔ آ جاؤ " مسز یزدانی نے تسبیح ایک طرف رکھتے ہوۓ کہا "کیا مانگتی رہتی ہیں الله پاک سے ہر وقت " وہ ان کا ہاتھ پکڑ کے بیڈ پر ہی بیٹھ گیا "اپنے بیٹے کی خوشی ، صحت اور زندگی ۔۔۔۔۔ اور بھلا کیا مانگوں گی " وہ مسکراتے ہوئے بولیں "ہممم ۔۔۔۔ رائٹ ۔۔۔۔ مگر یہ سب تو لکھا جا چکا ہے بہت پہلے سے " ولید ان کی گود میں سر رکھ کے لیٹ گیا ۔۔۔۔ اور مسز یزدانی اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگیں ۔۔۔۔۔ یہ چیز ولید کو ہمیشہ بہت سکون دیتی تھی ۔۔۔ اب بھی وہ آنکھیں بند کر چکا تھا ۔۔۔ "دعا تقدیر کو بدل دیا کرتی ہے ولید ۔۔۔۔ بس یقین ہونا چاہئے بیٹا کہ دینے والا ضرور دے گا ۔۔۔" ان کے لہجے میں یقین بول رہا تھا ۔۔۔۔۔ ولید بے اختیار ان کو دیکھے گیا ۔۔۔۔۔ بہت محنت ک تھی اس ک مما نے ۔۔۔ ۔ سب کچھ ہونے کے باوجود انہوں نے محنت کو نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔۔۔۔ اس نے مما کے ہاتھ چوم لئے ۔۔ "آج خیر تو ہے CEO صاحب۔۔۔۔ کوئی کام ہے کیا " وہ مسکراتے ہوئے بولیں "کیا مطلب میم ۔۔۔ میں بغیر کام کے آپ کو پیار نہیں کر سکتا کیا۔۔۔ یو آر مائی مما مائی پریٹی لیڈی " وہ اٹھ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔ مسز یزدانی اس کی باتوں پر ہنس رہی تھیں ۔۔۔۔ "وہ مما ۔۔۔۔ ۔ واقعی میں نے کوئی بات کرنی ہے آپ سے ۔۔۔ یو آر رائٹ " اس نے اعتراف کیا "مجھے پتا تھا ۔۔۔۔۔ ماں ہوں تمہاری ۔۔۔۔ سمجھتی ہوں تمہیں ۔۔۔بتاؤ کیا بات ہے " مسز یزدانی نے اس کی طرف پیار سے دیکھتے ہوۓ کہا "مما آپ چاہتی ہیں نا میں شادی کر لوں ۔۔۔۔ تو آئی ایم ریڈی ۔۔۔" اس نے آدھی بات کی "سچ میں ولید ۔۔۔۔ تم راضی ہو " ۔ مسز یزدانی کو یقین نہیں آ رہا تھا "جی مما ۔۔۔ ۔ میں زجاجہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ آپ اور جمشید ماموں اس کے گھر جائیں پلیز " ولید نے بات مکمل کی "زجاجہ سے ۔۔۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہو ولید ۔۔۔۔ " وہ حیران ہوئیں "کیوں مما ۔۔۔۔ کیا ہوا ۔۔۔۔ اس سے شادی کیوں نہیں کر سکتا میں " "ولید تمہاری شادی کا میں نے ماجد بھائی کے گھر سے سوچ رکھا ہے ۔۔۔ فروا کے ساتھ ۔۔۔۔۔ ان کے ویسے بھی ہم پر بہت احسانات ہیں بیٹا ۔۔۔۔۔ بیشک انہوں نے کبھی جتایا نہیں۔۔۔ مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم بھول ہی جائیں ۔۔۔ " انہوں نے اس کے بڑے تایا کا نام لیا ۔۔۔۔۔ "فروا سے ؟؟؟؟۔۔۔۔ مگر میں زجاجہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں مما ۔۔۔۔ میں نے کبھی فروا کے لئے ایسا نہیں سوچا ۔۔۔۔ میں نے ہمیشہ اس کو چھوٹی بچی سمجھ کے ڈیل کیا ہے " "پہلی بات وہ چھوٹی بچی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ تم سے صرف 3 سال چھوٹی ہے ۔۔۔۔۔۔اور بہت پہلے سے میں ماجد بھائی کے کان میں یہ بات ڈال چکی ہوں۔۔۔۔۔۔ اور دوسری بات یہ کہ یہ تو میری سوچ ہے نا ۔۔۔۔۔جب تم فیصلہ کر ہی آئے ہو تو پوچھنا بتانا کیا بیٹا ۔۔۔۔ خوش رہو " ان کے لہجے میں دکھ بول رہا تھا ۔۔۔۔ ولید تڑپ گیا ۔۔۔۔ وہ مما کو دکھ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔ "فیصلہ نہیں ہے مما ۔۔۔۔ ایک خواہش ہے بس ۔۔۔ فیصلہ آپ کا ہو گا ۔۔۔۔ اور آپ کا ہر فیصلہ میرے لئے حکم کا درجہ رکھتا ہے ۔۔۔۔ " وہ ٹوٹ رہا تھا مگر ماں کا بھرم بھی تو بچانا تھا نا ۔۔۔۔ "تم واقعی میری بات پہ راضی ہو ولید ؟؟؟" انہیں بے یقینی سی تھی "جی مما ۔۔۔۔ جیسا آپ چاہیں ۔۔۔ چلتا ہوں " اس نے ان کے ہاتھ چومے اور کھڑا ہو گیا ۔۔۔ "جیتے رہو ۔۔۔ خوش رہو ۔ ۔ ۔ میں بات کرتی ہوں بھائی سے اور آپا سے بھی " وہ بہت خوش تھیں ۔۔۔ ولید مسکرا کے ان کے کمرے سے نکل آیا ۔۔۔ کہیں بہت اندر بہت کچھ ٹوٹ گیا تھا ۔۔۔ "کیسے ناامید کروں گا اس جھلی کو ۔۔۔۔ اور خود کیسے رہوں گا ۔۔۔۔ مما کی بات سے انکار کروں تو نافرمان کہلاؤں گا ۔۔۔ اس کی امید توڑوں گا تو بیوفا کہلاؤں گا ۔۔۔ ۔ ۔ کیا کروں ۔۔۔ یا الله میری مدد فرما " سوچ سوچ کے وہ پاگل ہو رہا تھا ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "کتنی محبت کرتی ہو مجھ سے زجی " وہ آج پھر اس کو ساتھ لے کر آیا تھا ۔۔۔۔ وہ بہت خوش تھی ۔۔۔۔ "بتا چکی ہوں ایک بار پہلے بھی " وہ مسکرائی "ہممم ۔۔۔۔ اس دنیاوی محبت کا کوئی حاصل نہیں ہے زجی ۔۔۔۔ میں نے پہلے بھی تمہیں بتایا تھا ایک بار ۔۔۔۔۔ اور میرے خیال میں ایک انسان کی دوسرے تک فیلنگز پہنچ جائیں ۔۔۔ یہی بہت ہوتا ہے ۔۔۔۔ " وہ بہت سنجیدہ تھا ۔۔۔۔ زجاجہ کو کچھ معمول سے ہٹ کر محسوس ہوا ۔۔۔۔ "کیا مطلب ولی ۔۔۔۔ کہنا کیا چاہتے ہیں آپ " وہ اس کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی "دیکھو زجاجہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہم سے انجانے میں ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔ کچھ ایسی ہیں جو ہم جان بوجھ کر کرتے چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔ ان پر پکڑ ہو گی ۔۔۔۔ میں کوئی مولوی یا عالم نہیں ہوں ۔۔۔۔ ایک انسان ہوں ۔۔۔ جو سمجھنا چاہتا ہوں اس پاک ذات کو ۔۔۔ میں تمہیں بھی ویسا ہی دیکھنا چاہتا ہوں " وہ سامنے دیکھ کر بول رہا تھا "کیسا ؟؟" وہ محض اتنا ہی بول پائی ۔۔۔ "اس کی رضا میں راضی رہنے والوں میں سے ۔۔۔۔ اس کی مان کر چلنے والوں میں سے ۔۔۔" ولید نے جواب دیا "کیا آپ کو مجھ سے محبت ہے!؟؟" زجاجہ نے سوال کیا "یہ تم مجھ سے بہتر جانتی ہو " ولید نے اسی کے کوٹ میں بال پھینکی "آپ میرے بغیر رہ لیں گے کیا " زجاجہ کا یہ سوال ولید کے لئے غیر متوقع تھا ۔۔۔۔ زجاجہ اس کی بات تک پہنچ گئی تھی ۔۔۔ ولید نے ایک گہرا سانس لیا ۔۔۔اور اس کی طرف دیکھا۔۔۔ "دعا کاحق ہے ہمارے پاس۔۔۔ مجھ سے دور رہ کر مجھے اللہ پاک سے مانگو زجاجہ ۔۔۔۔۔" ولید نے زجاجہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا "آپ کیا آزمانا چاہتے ہیں ولی " زجاجہ بیچارگی سے بولی *تمہارا صبر ،تمہاری محبت ،تمہاری شدت اور تمہارا اللہ پر ایمان ۔۔۔۔۔۔ یوں تو کسی کو کوئی حق نہیں کسی دوسرے انسان کا ایمان آزمانے کا لیکن یہاں معاملہ کچھ اور ہے " اس کی خوبصورت بھوری آنکھوں میں شرارت چمکی "کیا مطلب ۔۔۔۔۔ کیا معاملہ ہے یہاں ؟؟" زجاجہ نے حیرت سے ولید کی طرف دیکھتے ہوئے کہا " یہاں جس کو آزمایا جا رہا ہے وہ زجاجہ سکندر ہے اور آزمانے والا ولید حسن ہے ۔۔۔۔ اور ولید حسن کو یقین ہے کہ زجاجہ سکندر اس آزمائش پر پوری اترے گی " اس نے مسکراتے ہوئے زجاجہ کے پیروں میں یقین کی بہت مضبوط زنجیر ڈال دی تھی ۔۔۔۔۔ "میں ہار جاؤں گی ولی " زجاجہ رو دینے کو تھی۔ "میرا یقین تمہارا حوصلہ رہے گا " ولید نے زجاجہ کی طرف پوری شدت سے دیکھا جیسے اس کے ایک ایک نقش کو حفظ کر رہا ہو ۔۔۔۔ زجاجہ محض اس کو دیکھ کر رہ گئی ۔۔۔۔۔۔ وہ ایک ریسٹورینٹ کے سامنے رکا ۔۔۔ "چلو ۔۔۔" ولید گاڑی بند کرتے ہوئے بولا "یہاں کیوں ۔۔۔۔ "زجاجہ نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا "کچھ نہیں ایسے ہی بس۔۔۔ آ جاؤ " وہ اتر گیا ۔۔۔۔ زجاجہ کو بھی اس کی تقلید کرنا پڑی ۔۔۔ وہ ایک کارنر ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔ زجاجہ بلیک کافی لیتی تھی جبکہ ولید چائے ہی پیتا تھا ۔۔۔ ابھی بھی اس نے ایک کافی اور ایک چائے آرڈر کی ۔۔ "مما میری شادی ماجد تایا کی بیٹی فروا سے کرنا چاہتی ہیں ۔۔۔ فاران بھائی کی بہن سے ۔۔۔ مجھے نہیں پتا زجاجہ آگے کیا ہو گا ۔۔۔۔ لیکن میں مما کو انکار نہیں کر سکا ۔۔۔ تم مجھے بےوفا کہو یا کمزور ۔۔۔ تمہارا حق ہے ۔۔۔۔ " وہ بولتے بولتے رکا ۔۔۔۔ ویٹر آرڈر ڈیلیور کرنے آیا تھا ۔۔۔۔ اس کے جانے کے بعد ولید دوبارہ گویا ہوا " مما نے آج تک مجھ سے کچھ نہیں مانگا ۔۔۔۔ کوئی کام نہیں کہا ۔۔۔۔ مجھے لگا اگر آج میں نے ان کو انکار کر دیا تو ہمیشہ نامراد رہوں گا ۔۔۔۔ " "آپ نے جو کیا ٹھیک کیا ولی ۔۔۔۔ مجھے خود سے محبت ہوتی جا رہی ہے کہ مجھے آپ جیسے انسان سے محبت ہے ۔۔۔۔ آپ کہیں بھی رہیں ۔۔۔ کسی کے ساتھ بھی رہیں ۔۔۔۔ مگر میرا یقین ہے کہ آپ نے محبت مجھ سے کی ہے ۔۔۔۔ آپ composed ہیں کافی ۔۔۔۔ مجھے یقین ہے سنبھال لیں گے خود کو ۔۔۔۔ " وہ ۔ بہت مشکل سے بول رہی تھی "اور تم ؟؟؟" ولید نے اچانک سوال کیا ۔۔۔۔ زجاجہ اس کو دیکھنا شروع ہو گئی ۔۔۔۔ کچھ دیر کے بعد بولنے کے قابل ہوئی "میں ۔۔۔۔۔۔ نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔ آپ بھی جانتے ہیں ۔۔۔۔ مر نہیں جاؤں گی لیکن جی بھی نہیں پاؤں گی ولی ۔۔۔۔ مجھے کسی بھی طریقے سے کسی بھی رشتے سے اپنے پاس رکھیں پلیز ۔۔۔۔ " زجاجہ نے بہت کوشش کی ضبط کرنے کی مگر نہ کر سکی ۔۔۔۔۔ سارے بند ٹوٹ گئے ۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔۔ ولید کے لئے خود کو سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا کجا کہ وہ اسے تسلی دیتا ۔۔۔۔ "اے زجی ۔۔۔۔ ادھر دیکھ ۔۔۔ ابھی کیا بول رہی تھی ۔۔۔ اور اچانک کیا ہوا ۔۔۔۔ جھلی " ولید نے پہلی بار اس کو چھوا تھا ۔۔۔۔ ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے اس کی لگا جیسے وہ اس لمحے میں قید ہو جائے گا ۔۔۔۔ کبھی نکل نہیں پائے گا اس کیفیت سے ۔۔۔۔ زجاجہ نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ "چلتے ہیں ۔۔۔۔ بہت دیر ہو گئی ہے " زجاجہ آنکھیں صاف کرتے ہوئے بولی ۔۔۔ اور بیگ اٹھا لیا ۔۔۔ ولید نے بل پے کیا اور دونوں باہر آ گئے ۔۔۔۔ یونی سے کچھ دور ولید نے گاڑی ایک بار پھر روک دی ۔۔۔۔ "تم کہتی ہو نا محبت ہر پابندی ہر گناہ ثواب سے آزاد ہوتی ہے ۔۔۔۔ " ولید نے زجاجہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔۔ "تو یہ لو " ولید نے آگے بڑھ کر زجاجہ کا ماتھا چوم لیا ۔۔۔۔ دو آنسو زجاجہ کے گال بھگو گئے ۔۔۔ وہ سمجھ نہ سکی کہ یہ آنسو ولید کے تھے یا اس کے اپنے ۔۔۔۔ "ادھر ہی اتر جاؤ ۔۔۔۔ آئی ایم گوئنگ بیک " وہ نظریں چراتا ہوا اترنے لگا کہ زجاجہ نے آواز دی "ولی " زجاجہ نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا ۔۔۔۔ ولید جانتا تھا کہ اگر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پتھر کا ہو جائے گا ۔۔۔۔ اور یہ غلطی وہ کر چکا تھا ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زجاجہ خطرناک حد تک زرد پڑ گئی تھی ۔۔۔۔۔ اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں ۔۔۔۔۔ولید کے ہاتھ پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑتی جا رہی تھی ۔۔۔۔ولید کے پاؤں سے زمین نکل گئی "زجی ۔۔۔۔زجی ۔۔۔ آنکھیں کھولو پلیز ۔۔۔۔۔ زجی کیا ہوا ۔۔۔۔آنکھیں کھولو " وہ اس کا چہرہ تھپک رہا تھا ۔۔۔۔۔ زجاجہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو چکی تھی ۔۔۔۔ ولید نے فورا نقاش کو کال کی اور اسے ہاسپٹل پہنچنے کو کہا ۔۔۔۔۔ اور خود تیس منٹ کا فاصلہ 8 منٹ میں طے کر کے زجاجہ کو ہاسپٹل لے آیا ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر فیصل ولید کے اچھے دوستوں میں سے تھا ۔۔۔۔ وہ فورا زجاجہ کو ایمر جنسی میں لے گیا ۔۔۔۔ ڈاکٹرز کی ایک پوری ٹیم الرٹ کر دی گئی ۔۔۔۔۔ نقاش بھی پہنچ گیا تھا ۔۔۔۔۔ ولید نے بیا کو کال کر کے بتایا اور ساتھ ہی سکندر انکل کو بتانے کا بھی بولا ۔۔۔۔۔ وہ خود میں اتنی ہمت محسوس نہیں کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں سکندر علی اور ان کی بیگم کے علاوہ بیا ، ثنا ، حیدر اور وقاص بھی آ چکے تھے